Accessibility

Accessibility

Website Zoom

Color/Contrast

Download Reader

The Sitting of the National Assembly has been adjourned to meet again on Monday, the 19th October, 2026 at 05:00 p.m.
Print Print

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا غربت کے خاتمے، سماجی انصاف کے فروغ اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے قومی عزم کی تجدید پر زور

Friday, 16th October, 2026
اسلام آباد، 16اکتوبر 2026ء: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر غربت کے خاتمے، ہر شہری کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی اور ایک منصفانہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے قومی عزم کی تجدید پر زور دیا ہے۔
 
اپنے پیغام میں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ غربت محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی انصاف اور مساوی مواقع کی فراہمی سے جڑا ایک بنیادی چیلنج ہے۔ ہر شہری کو اس کے معاشی حالات یا جغرافیائی محلِ وقوع سے قطع نظر معیاری تعلیم، سستی اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات، مناسب رہائش، غذائیت سے بھرپور خوراک، باعزت روزگار اور سماجی تحفظ کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کا عالمی دن ریاست، پارلیمان، حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو غربت کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے مشترکہ ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانا اور کسی بھی طبقے کو ترقی کے عمل سے محروم نہ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 
اسپیکر نے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف، باالخصوص غربت کے خاتمے، کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے، باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عدم مساوات میں کمی لانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کو قومی پالیسی سازی، سرکاری اخراجات اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت دینے کی ضرورت ہے۔
 
سردار ایاز صادق نے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تعلیم اور فنی تربیت تک رسائی بہتر بنانے، چھوٹے کاروباروں اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد کی معاونت اور پسماندہ علاقوں میں معاشی مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شفاف، مؤثر اور ہدف پر مبنی حکومتی پالیسیاں کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو مستقل معاشی خودمختاری حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں، تاکہ وہ عارضی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
 
رواں سال اقوامِ متحدہ کی جانب سے محفوظ گھروں کی فراہمی پر خصوصی توجہ اور 2026ء تا 2028ء کے موضوع ’’امن اور انسانی حقوق کے لیے متحد‘‘ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ محفوظ، مناسب اور قابلِ استطاعت رہائش انسانی وقار اور سماجی بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں اور کمزور طبقات کی رہائشی ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ محفوظ رہائش تعلیم، صحت، روزگار اور بہتر معیارِ زندگی تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
 
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی، تعمیری پارلیمانی بحث، حکومتی کارکردگی کی نگرانی اور سرکاری اخراجات کی جانچ پڑتال کے ذریعے پارلیمان اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ترقیاتی پالیسیاں عوامی ضروریات کے مطابق، جامع اور پسماندہ طبقات کے مسائل کا مؤثر حل فراہم کرنے والی ہونی چاہئیں۔
 
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ متوازن علاقائی ترقی، بنیادی عوامی سہولیات کی بہتر فراہمی اور مختلف علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت سے پاک پاکستان کی تعمیر کے لیے محض معاشی ترقی کافی نہیں، بلکہ منصفانہ مواقع، جوابدہ ادارے اور ایسی پالیسیاں بھی ضروری ہیں جو کسی فرد یا طبقے کو پیچھے نہ چھوڑیں۔
 
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تمام متعلقہ اداروں اور طبقات پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں جہاں ہر شہری عزت، تحفظ اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کا خاتمہ ایک قومی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری بھی ہے، جو پائیدار ترقی، سماجی ہم آہنگی اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔