قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی چیئرپرسن محترمہ سیدہ نوشین افتخار کی پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے زیر اہتمام منعقدہ ’’نسلِ نو ادبی میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی
Tuesday, 11th August, 2026
اسلام آباد: 11 اگست 2026ء: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی چیئرپرسن محترمہ سیدہ نوشین افتخار نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے زیر اہتمام منعقدہ ’’نسلِ نو ادبی میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔
اس موقع پر چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی چیئرپرسن محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ان کی پوری ٹیم کو بامقصد ادبی میلے کے انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر ’’نسلِ نو ادبی میلہ‘‘ کا انعقاد اس امر کا مظہر ہے کہ قومیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ اپنی زبان، ادب، ثقافت اور فکری ورثے سے بھی اپنی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان شاعروں، ادیبوں، طلبہ اور ادب سے محبت رکھنے والے افراد کی اس میلے میں شرکت پاکستان کے روشن مستقبل کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب دوستی، مطالعہ اور تخلیقی اظہار نوجوان نسل میں شعور، برداشت، تحقیق اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں، جو ایک مضبوط، باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔
محترمہ سیدہ نوشین افتخار نے پاکستان کے لسانی اور ثقافتی تنوع کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے ساتھ ساتھ تمام علاقائی زبانیں پاکستان کے مشترکہ ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں اور ان کے فروغ و تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کمالِ فن ایوارڈ کے تمام معزز وصول کنندگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادبی خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور یہ امر ثابت کرتی ہیں کہ علم و ادب کی خدمت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے کہا کہ بطور عوامی نمائندہ وہ اس امر پر یقین رکھتی ہیں کہ نوجوانوں کے لیے ادبی، ثقافتی اور تعلیمی مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری سمت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب، تاریخ، ادب اور قومی اقدار سے بھی جوڑنا ہوگا، کیونکہ یہی عناصر ان کی شخصیت اور قومی شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں، قلم سے اپنا رشتہ مضبوط بنائیں، مثبت سوچ کو فروغ دیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مثبت تشخص کے لیے بروئے کار لائیں۔
آخر میں محترمہ سیدہ نوشین افتخار نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’نسلِ نو ادبی میلہ‘‘ نوجوانوں کے لیے علم، ادب، مکالمے اور تخلیقی اظہار کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گی۔