ment of children. He stated that children engaged in hazardous labour are deprived of education, health, recreation, and opportunities to realize their full potential. He emphasized that every child deserves a safe and supportive environment where they can learn, grow, and become productive members of society.
NA Deputy Speaker further stressed that eliminating child labour requires collective action from the government, civil society, educational institutions, parents, and society at large. He noted that poverty, lack of educational facilities, and social inequalities are key contributing factors that must be addressed through effective policy interventions and public awareness. He reiterated the National Assembly’s commitment to safeguarding children’s rights and promoting their welfare through effective legislation.
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا
پریس ریلیز
چائلڈ لیبر کا خاتمہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق
پارلیمان بچوں کے استحصال کے خاتمے اور تعلیم کے حق کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق
اسلام آباد، 11 جون 2026ء: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ بچے قوم کا قیمتی سرمایہ اور ایک خوشحال، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنا اور انہیں تعلیم، صحت اور مساوی مواقعوں کی فراہمی یقینی بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بچوں سے مشقت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 12 جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ بچوں سے مشقت دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کو ان کے بچپنے سمیت، تعلیم اور ترقی کے مواقعوں سے محروم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچے کو محفوظ، صحت مند اور سازگار ماحول میں پروان چڑھنے کا بنیادی حق حاصل ہے جہاں وہ ہر قسم کے استحصال اور زیادتی سے محفوظ رہ سکے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ آئینِ پاکستان بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح ضمانت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 11 چودہ سال سے کم عمر بچوں کو کارخانوں، کانوں اور دیگر خطرناک پیشوں میں ملازمت دینے کی ممانعت کرتا ہے اور آرٹیکل 25-اے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 37(ای) ریاست کو محفوظ اور انسانی وقار کے مطابق کام کے ماحول کی فراہمی اور بچوں کو نامناسب ملازمتوں سے تحفظ فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال ملک بھر میں بچوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاکس بچوں کو استحصال، زیادتی اور غفلت سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط چائلڈ پروٹیکشن میکانزم، عوامی آگاہی اور قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے کاکس کی اسکولوں سے باہر بچوں سے متعلق جامع رپورٹ کو بھی سراہا، جو آؤٹ آف سکول چلڈرن کی وجوہات اور بنیادی عوامل کی نشاندہی کرتی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ہر صوبے میں موجود منفرد زمینی حقائق کے مطابق مخصوص اور مؤثر حل اور تجاویز پیش کرتی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر متعدد قوانین کے ذریعے چائلڈ لیبر کی روک تھام، بچوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی پاکستان کے آئینی تقاضوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی عکاس ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ غربت، تعلیم تک محدود رسائی اور سماجی ناہمواریاں چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے حکومت، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بچوں کو مشقت کی بجائے تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، صحت اور فلاح و بہبود پر سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمان بچوں کے تحفظ، فلاح، تعلیم اور بااختیار بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی اور ملک سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کی حمایت کرے گی۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے بھی بچوں سے مشقت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ چائلڈ لیبر بچوں کے حقوق اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ استحصالی اور خطرناک مشقت میں مصروف بچے نہ صرف تعلیم، صحت اور تفریح جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے مواقع بھی کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو ایک محفوظ اور معاون ماحول میسر ہونا چاہیے جہاں وہ تعلیم حاصل کر سکے، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکے اور معاشرے کا مفید شہری بن سکے۔
ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے مزید کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غربت، تعلیمی سہولیات کی کمی اور سماجی ناہمواریاں بچوں کو مشقت کی جانب دھکیلنے والے اہم عوامل ہیں جن کے تدارک کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات اور عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔