Last Updated On: 26th October 2020, 05:31 PM
Home | Advertisments | Careers | Downloads | Useful Links | FAQs | Contact Us 
| Today In National Assembly: 05:00 PM: National Assembly Session | Committee Meetings:11:30 AM: Meeting of the Sub-Committee-VIII of the PAC (Revised) at Committee Room No.2 Parliament House, Islamabad | 02:30 PM: 2nd meeting of the Sub-Committee-VII of PAC at Committee Room No.2, Parliament House, Islamabad |

Press Release Details

Share Print
Press Release
Friday, 9th October, 2020

 

سپیکر قومی اسمبلی کا مراکش اور پاکستان کےمابین  اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور ۔

 

اسلام آباد؛ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے افریقہ میں دوست ممالک کے مابین شراکت داری کے عمل کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان‘‘ لُک افریقہ پالیسی’’ کے تحت افریقی ممالک کے ساتھ عوامی اور معاشی روابط میں اضافے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں  مراکش کے سفیر محمد کرمون سے جمعہ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 

 اسپیکر نے کہا کہ پاکستان اور مراکش کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں اور مذہب ، باہمی احترام  اور یکجہتی کی مضبوط بنیادوں پر استوار  ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی پارلیمانی فورموں پر مراکش کے جانب سے پاکستانی موقف کی حمایت کو سراہا ۔

اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کے لیے لُک افریقہ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے ۔ انہوں نے  قومی اسمبلی میں قائم  پارلیمانی دوستی گروپ کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرینڈ شپ گروپ کے قیام اس عزم  کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظاہر کیا کہ دوستی گروپ دونوں اقوام کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ دوطرفہ تجارتی تعلقات پر بات کرتے  ہوئے اسپیکر نے کہ دونوں ممالک میں معاشی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں اور پاکستان مراکش کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک میں  میڈیکل ، انجینئرنگ اور دیگر سائنسز کے طلبا کے تبادلے کا کہا۔

 

‏مراکش کے سفیر محمد کرمون نے اسپیکر کے تاثرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مراکش پاکستان کے ساتھ اپنے دہائیوں پر محیط  تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات جو مذہب ، تاریخ اور ثقافت پر مبنی ہیں کو اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اسپیکر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دوطرفہ تجارتی حجم میں دونوں ممالک میں پائے جانے والے مواقع کے مطابق اضافہ کیا جائے ۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک میں عوامی سطح پر رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔  انہوں نے سپیکر کو  دوطرفہ تعاون اور عوامی سطح پر رابطوں میں اضافے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا یقین دلایا ۔ انہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی اور مراکش کی پارلیمان میں قائم فرینڈ شپ گروپ کے ممبران میں رابطوں کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی  بھی تجویز دی۔