Last Updated On: 22nd May 2020, 02:58 PM
Home | Feedback | Advertisments | Careers | Downloads | Useful Links | FAQs | Contact Us 
The National Assembly has been summoned to meet on Friday, the 5th June, 2020 at 4:00 p.m. in the Parliament House, Islamabad|

Press Release Details

Share Print
The Women should be empowered to form a developing Society
Saturday, 7th March, 2020

اسلام آباد، 7 مارچ 2020: اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے خواتین کی بے حرمتی اور ان پر جبر و تشدد روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 117 دنوں سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں خواتین  ضعیف ، بچے  اور  بیمارافراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کو بند کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارخواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں دیتے ہوئے کیا جو ہر سال 8 مارچ کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں منایا جا تا ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کے لیے خواتین کے حقو ق کا تحفظ ناگزیر ہے اوران کی حوصلہ افزائی اور انہیں ہر شعبے میں یکساں مواقع فراہم کرکےملک کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتاہے ۔ انہوں نےکہا کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور موجودہ حکومت آبادی کے اس بڑے حصے کے حقوق کے تحفظ اور انہیں محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرُ عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان پر  جبر و تشد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر عالمی برادری کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے اورقانون سازی کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ اسلام خواتین کو مساوی حقو ق اور احترام دیتا ہے اور صنفی امتیاز کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  خواتین کے حقوق کے بارے میں منفی رویوں کو بدلنے ،  انہیں قومی دھارے میں لانے اور انہیں معاشرے میں ان کا جائز مقام دلانے کے لیے جامع لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خواتین کو معاشی طورپر بااختیار بنانے کے لیے خواتین کو اقتصادی شعبوں میں آگے لانے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم  عمران خان پاکستان کو ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں جہاں خواتین کو عزت اور خود اعتمادی کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں حصہ لینے کے مواقع میسر ہوں۔

اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آدھی سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں ترقی کے یکساں مواقعوں کی فراہمی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔پاکستان کا آئین خواتین کو جانی اور مالی تحفظ ، کام ، کاروبار، تعلیم اور آزادی کے ساتھ پیشے کے انتخاب اور  سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ضمانت دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھا  رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو مصائب کا سامنا ہے عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔