Last Updated On: 18th October 2019, 06:15 PM
Home | Feedback | Advertisments | Careers | Downloads | Useful Links | FAQs | Contact Us 
The National Assembly Session has been prorogued on Wednesday, the 2nd October, 2019 |

Press Release Details

Share Print
Letter from the Speaker of the National Assembly to the IPU and CPA for sending a fact-finding mission to investigate human rights abuses and constitutional freedoms in the occupied valley
Monday, 7th October, 2019

 

اسلام آباد؛7اکتوبر  ، 2019: اسپیکر قومی اسمبلی، اسد قیصر نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) اور دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی اے) کے قائم مقام سیکریٹری جنرل کو خطوط لکھ کر  مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آئینی آزادیوں کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری کامطالبہ کیا ہے ۔اسپیکر نے آئی پی یو اور سی پی اے کے ممبر ممالک کے پارلیمانوں پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ مشن کشمیر بھیجنے کی بھی تجویز دی۔

 

سیکریٹری جنرل آئی پی یواور قائم مقام سیکریٹری جنرل سی پی اے کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ نرنندر مودی کی حکومت نے  5 اگست 2019 کو غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر بھارت کے آئین سے علی ترتیب آرٹیکل 35-A اور 370 کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان آرٹیکلز کی رو سے کشمیر  کی ریاست کے حتمی تفصیے تک ریاست کی عوام کو محدود پیمانے پر خود مختیاری حاصل تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ان آرٹیکلز کو ختم کرکے بھارتی کی حکومت نے غاصبانہ انداز میں کشمیر کی عوام کو واحد قومیت اور ریاست میں ملکیتی حقوق سے محروم کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے بھارتی موقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا  اور اسے ہمیشہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونے کے برابر قرار دیا ہے تاہم نئی دہلی کی طرف سے اپنے وعدوں سے انحراف نے اس کے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے متعلق حقیقی چہرے کو بےنقاب کردیا ہے۔

 

آئی پی یو کے آرٹیکل 1 کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے سیکریٹری جنرل آئی پی یو کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا کہ آئی پی یو دنیا بھر میں پارلیمانی مکالمے  کا محور اور مرکز ہونے کی حیثیت سے عوام اور نمائندہ اداروں کے مابین امن اور تعاون کے لیے کام کرنے کا پابند ہے۔ آئی پی یو تمام ممالک کی پارلیمنٹس اور پارلیمنٹیرینز کے درمیان رابطوں اور تجربات کے تبادلوں کے علاوہ بین الاقوامی دلچسپی کے حامل امور پر بھی اس نظریے کے تحت غور کیا جاتا ہے کہ ممبر ممالک کی پارلیمنٹس اور ممبران اس پر عمل پیرا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ آئی پی یو کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے آئی پی یو کے سیکرٹری جنرل توجہ کشمیر کے محکوم اور محصور شہریوں، خواتین اور بچوں کی طرف مبذول کروائی جو گزشتہ 63دنوں سے کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

 

 اسپیکرنے قائم مقام سیکریٹری جنرل سی پی اے کو لکھے گئے خط میں پاکستان سے 61 ویں سی پی اے کانفرنس کی میزبانی کو واپس لینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کو کانفرنس میں شرکت  کی دعوت نہ دینے کی بنا پر پاکستان سے میزبانی کے فرائض کو واپس لیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کو نہیں تسلیم کیا تھا اور یہ اُس کا اصولی موقف تھا تاہم سی پی اے نے پاکستان کی اس دلیل کو نہیں مانا اور اُسے سی پی اے کا نفرنس کے انعقاد کی میزبانی سے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ سی پی اپنی سب برانچوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنے  کا پابند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پی اے کی وہ ہی برانچ آج  معزول ہے اور سی پی اے اُن وجوہات اور حالات کا جائزہ لینے جن کی بنا پر اس کو معزول کیا گیا ہے کا اخلاقی طور پر پابند ہے ۔

 

اسپیکر نے دونوں عالمی اداروں کے سیکرٹریز جنرل کو بتایا کہ پوری مقبوضہ وادی میں صبح سے شام تک کرفیو لاگو ہے اور انٹرنیٹ سمیت تمام موصلاتی رابطوںپر مکمل پابندی عائد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساری کشمیر سیاسی قیادت کو جیلوں میں بند کر دیا گیاجن میں بھارت کے حامی رہنما بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر ئے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی زیر حراست ہیں۔ انہوں نے آئی پی یو کے آئین کے ارٹیکل 23کے تحت  قائم اراکین پارلیمنٹ کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیٹی کو بھارت میں زیر حراست عوامی نمائندوں کی غیر قانونی گرفتاریوں  کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔

 

 انہوں نے بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی   مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نذر قومی اسمبلی آف پاکستان جو آئی پی یو اور سی پی اے کا سرگرم اور فعال  ممبر  ہے  کی جانب سے آئی پی یو اور سی پی اے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقو ق کے مسلسل اتحصال اور آئینی آزادیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آئی پی یو کے ممبر پارلیمنٹس اور سی پی اے کی برانچوں پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ مشن بھی فوری طور پر مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا کہا۔