Last Updated On: 24th November 2017, 06:04 PM
Home | Feedback | Advertisments | Careers | Downloads | Useful Links | FAQs | Contact Us 
The National Assembly Session has been prorogued on Tuesday, the 21st November, 2017 |

Press Release Details

Share Print
The whole nation and parliament is thankful to Kashmiri brothers for their solidarity with Pakistan on Independence Day: Maulana Fazl-ur-Rehman
Wednesday, 16th August, 2017

چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے کشمیر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے جاری ایک بیان میں پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مکمل وابستگی و یکجہتی کا بھرپو رمظاہرہ کرنے پر آل پارٹی حریت کانفرنس کے تمام لیڈروں اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی افواج کے غیر انسانی سلوک اور ظلم و استبداد کے باوجود اپنے بنیادی حق کے خاطر پورے استقلال کے ساتھ جدوجہد آزادی کو جاری رکھتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں جن کی تاریخ میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ یوم سیاہ کے حوالے سے بھی کشمیری قوم کی طرف سے بھارتی غاصبانہ قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا۔
چیئرمین نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے متعلق زمینی حقائق سے نظریں نہ چرائے بلکہ ان کا سامنا کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے مستقل و پائیدار حل کے لیے پاکستان کے ساتھ معنی خیز مذاکرات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پوری دنیا بھارتی چال بازیوں کو مکمل طور پر جان چکی ہے کہ بھارت کی ہمیشہ سے منفی سوچ رہی ہے کہ تنازعہ کشمیر کو طوالت دیکر ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ اول تو پاکستان کشمیر کو بھول جائے یا مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگریفی کو بدل دیا جائے تاکہ اگر حالات موافق ہوجائیں تو استصواب رائے کرواکر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں ان جان فروش کشمیری شہیدوں کو جن کی گراں قدر قربانیوں کے باعث جدوجہد کشمیر ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے کہ اگر بھارتی سیاسی قیادت کی طرف سے حقیقت پر مبنی فیصلے نہ کیے گئے  تو کشمیری نوجوان  مزید غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے کی بجائے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہونگے۔  گزشتہ سال شہید برہان وانی کی شہادت کے واقعہ نے وادی میں بسنے والے کشمیریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ انہیں بھارتی حکومت اور افواج کی طرف سے کوئی خیر کی امید نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی اور سوشل میڈیا پر بھی کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے نا قابل معافی مظالم کی ایک طویل فہرست موجود ہے مگر حیرانگی کی بات ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی دعویدار عالمی تنظیمیں اور طاقتور ترین ملک بھی اس ضمن میں بھارتی حکومت کے خلاف کوئی مؤثر اقدام اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہیں جس کی صاف وجہ بھارت سے وابستہ تجارتی اور دیگر مفادات ہیں۔ انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ کی ۱۳ رکنی پینل کی جانب سے (جس میں حکمران جماعت کے ۳۱ ارکان بھی شامل ہیں) پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب بھارتی پارلیمنٹ کے اندر سے بھی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے لہذا وزیر اعظم مودی کو پاکستان کے ساتھ بات چیت سے گریز کی حکمت عملی کو بدلنا ہوگا تاکہ خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنا کر جنوبی ایشیاء کی غربت میں پسی عوام کو ترقی کی راہ پر ڈالا جاسکے۔بھارتی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے پرامن بقائے باہمی جیسے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ماضی کی پرچھائیوں سے دامن چھڑانا ہوگا تبھی وہ اپنے ملک کی عوام کو بھی ترقی یافتہ قوموں میں شمار کرسکتے ہیں۔بین المذہبی رواداری کو فروغ اور مذہبی تنگ نظری سے نجات ہی موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے جسے ہرگزنظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ کوئی بھی قوم دنیا میں باعزت مقام تبھی حاصل کرتی ہیں جب وہ انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کریں۔
    ان تمام حالات کے باوجود چیئرمین نے کشمیریوں کے حوصلے اور جرات مندی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر گز نہ گبھرائیں کیونکہ آپ کی جدوجہد آزادی کی تحریک حق اور اصولوں پر مبنی ہے اس لیے انشاء اللہ اس کا منطقی انجام بھی آپ کے حق میں ہی ہوگا چاہے بھارتی حکومت کتنی ہی چال بازیاں کرے وہ آپ کو اس بنیادی حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ اس سلسلہ میں پاکستان کی پوری قوم، حکومت اور پارلیمنٹ آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور اخلاقی، سفارتی اور سیاسی محاذ پر آپ کی غیر متزلزل حمایت کرتی رہے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے گزشتہ دنوں بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی میں بے دریغ انسانی خون بہاتے ہوئے معصوم شہریوں کی شہادتوں پر افسوس اور مذمت کا اظہار کیا ہے جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ کشمیریوں کی جانب سے اپنے شہداء کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفنانے اور اس موقع پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کا عمل اس بات کا آئینہ دار اور دنیا کے لیے واشگاف پیغام ہے کہ کشمیری عوام الحاق پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں جسے پوری پاکستانی قوم انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
    انہوں نے آخرمیں کہا کہ میں اللہ تعالی کے حضوردعاگو ہوں کہ وہ کشمیری شہداء اور معصوم عوام کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور جدوجہد کو قبول کرتے ہوئے انہیں جلد از جلد منزل سے ہمکنار کرے۔ آمین